جب خیمے میں رخصت کو شاہِ بحر و بر آئے
چلائی سکینہ میرے بے کس پدر آئے
شہہ کہتے تھے بی بی ہمیں رو کر نہ رُلائو
پھر پیار کریں ہم تمہیں منہ آگے کو لائو
وہ کہتی تھی ہمراہ مجھے لے کے تو جائو
میں کیا کروں میدان میں گر جا کے نہ آئو
نیند آئے گی جب آپ کی بُو پائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں چلی آئوں گی بابا
فرمایا نکلتی نہیں سیدانیاں باہر
سینے پہ سُلائیں گی تمہیں رات میں مادر
کیوں کہتی ہو مقتل میں چلی آئوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔
ننھے سے کلیجے پہ میرے چلتی ہے تلوار
کھلتا نہیں کیوں آپ نے باندھے ہیں یہ ہتھیار
میں آپ کو کھو کر نہ کبھی پائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔
آتی ہے بلا سر پہ تو پہلے مجھے وارو
مر جائوں گی بابا نہ سدھارو نہ سدھارو
جائو گے جہاں میں بھی وہیں جائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔
شب ہو گی تو پھر خاک پہ سوئیں گے کہاں آپ
سینے پہ تو اصغر کو سُلائیں گے وہاں آپ
اچھا میں وہیں خاک پہ سو جائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔
آنے دو اگر پیاس سے غش آئے گا بابا
تم جیتے رہو پانی بھی مل جائے گا بابا
میں آپ کو دیکھوں گی تو جی جائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔
کچھ دُور نہ تھے ہم کے تمہیں نیند نہ آئے
کیا ہووے گا جب ہو گی مہینوں کی جُدائی
بی بی نہ کہو میں نہیں سو پائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔
وہ حال انیس اب نہیں ہو سکتا ہے مرقوم
جس طرح چھُٹی باپ سے وہ دُخترِ مظلوم
نوحہ تھا یہی جس کا نہ جی پائوں گی بابا
میں رات کو مقتل میں ۔۔۔