کرب و بلا لہو کا سفر دیکھتی رہی
مقتل کی سمت راہ گذر دیکھتی رہی
مقتل میں ایڑیوں کو رگڑتا رہا پسر
آنکھوں سے خوں بہاتی ہوئی باپ کی نظر
برچھی میں نوجواں کا جگر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو
بیٹوں نے یوں خیال رکھا اپنی بات کا
جال سے گذر گئے نہ کیا رخ فرات کا
ماں اپنی تربیت کا اثر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو
لے کر عبا میں آئے جگر کو شاہ زمن
لاشے کو دکھ کر سامنے ابن حسن کی ماں
دلہن کے چشم تر کے گوہر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو
جب خیمہ گاہ جا نہ سکا شیر لوٹ کر
حزن و علم سے حضرت عباس نامور
بے آب مشک خوں میں تر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو
جس وقت کائنات کی گردش بھی رک گئی
خیمے کے در پہ مادر مضطر کھڑی رہی
پیکان حرملا تیرا شر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو
خنجر کی پیاس خوں سے بچھا کر اٹھا لعین
آغوش میں بریدہ بدن کو لئے زمین
نوک سناں پہ شاہ کا سر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو
شاہد رکھا امام نے غربیت میں بھی لحاظ
انسانیت نظر کو جھکائے بعد نیاز
زانو پہ شہہ کے جون کا سر دیکھتی رہی
کرب و بلکا لہو