قافلہ لُٹ گیا اماں میرا لشکر نہ رہا
اماں نانا کی نشانی علی اکبر نہ رہا
رہ گیا دردِ کمر ہائے برادر نہ رہا
اب خبر آپ نے لی گھر کی کہ جب گھر نہ رہا
اب دمِ زبح یہ پورے میرے ارماں کرنا
عرش کے نیچے نہ بالوں کو پریشاں کرنا
جائو کہ نہ اب دیرکرو ،دیکھو نہ اماں
اب لعل تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
آپ آئی ہیں اماں میں سلامی کو نہ اُٹھا
ہے درد کلیجے میں جو اُٹھنے نہیں دیتا
حسرت تھی تیرے پہلو میں دم میرا نکلتا
میں چین سے سوجاتا تیری گود میں مادر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔
کچھ دیر میں نیزے پہ رکھا ہوگا میرا سر
نہ دیکھنا اُس وقت مجھے مادرِ مضطر
چل جائے گا اُس وقت تیرے قلب پہ خنجر
گھوڑے ابھی دوڑیں گے میری لاش کہ اُپر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔
میں صبح سے تاعصر اُٹھاتارہا لاشے
دامن میں چُنے قاسمِ نو شاہ کے ٹکڑے
لپٹا علی اکبر کا کلیجہ تھا سناں سے
اماں میرے چہرے پہ ہے خونِ علی اصغر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔
کس حال میںاماں ہے تیری گود کا پالا
مقتل میں میرا کھوگیا ہر ایک اُجالا
ہے کون سکینہ کو میری پوچھنے والا
سوئے گی میرے سینے پہ کیسے میری دختر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔
دیکھو تو قیامت ہے بپا اہلِ حرم میں
خیمے سے نکل آئی ہے زینب میرے غم میں
اب آنے کو ہیں بیبیاں باہر کوئی دم میں
سمجھائو اُنہیں اماں رہیں خیمے کے اندر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔
لو سانس اُکھڑنے لگی دل ڈوب رہا ہے
نظروں میں میری زینبِ مضطر کی ردا ہے
عابد سے تھی اُمید سو وہ اب غش میں پڑا ہے
کیا ہوگا میرے بعد سکینہ کا مقدر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔
اے سرور و ریحان بیاں کیسے ہو منظر
شہہ کہتے تھے اماں یہ کڑا وقت ہے مجھ پر
کس طرح کلیجے سے لگوں آپ کے اُٹھ کر
چوموں گا قدم آپ کے اب میں لبِ کوثر
اب لعل تیرا زین پہ۔۔۔۔