اے زعفرِ جن آپ بھی آئے تھے وہاں پر
کیا آپ نے دیکھا
عاشور کے دن لٹ گیا زہرہ کا بھرا گھر
کیا آپ نے دیکھا
زینب کے پسر نے مجھے ہاتھوں پہ اٹھایا
اور خون میں نہایا
دریا کی طرف پشت کئے مر گئے دلبر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
خیمے میں کہیں کوئی مسند بھی بچھی تھی
دلہن بھی کھڑی تھی
جب کھولی گئی لاشائے نوشاں کی چادر
کیا آپ نے دیکھا
اے ظفرے جن
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
اللہ رے وہ ثانی حیدر بہ علمدار
وہ شہ کا وفادار
کس طرح گھوڑے سے گرا
بے دست زمین پر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
سنتے ہے کہ برچھی میں کلیجہ نکل آیا
سکتے میں ہے دنیا
کھینچی ہے سناں شاہ نے جو یاعلی کہہ کر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
بشیر کا خون لینے سے انکار کیا ہے
جب عرض و سماں نے
تب شاہ نے ملا چہرے پہ خون علی اصغر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
مظلوم کے سینے پہ تھا سوار ستمگر
تھا حشر کا منظر
اور خون خشک گلے پر تھا رواں شمر کا خنجر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
جب پھیل گئی چاروں طرف شام غریباں
ماحول تھا گریہ
بچی کوئی بابا کو صدا دیتی تھی رو کر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن
بیمار کا بستر ہو کہ بشیر کا جھولا
سب جل گیا واللہ
شاید نہ تھا اس ظلم کا کوئی بھی وہاں پر
کیا آپ نے دیکھا
اے زعفرِ جن