Be khata jis ko tu marta hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

عرش پر رب کی یہ اِک عطا ہے
بے خطا جس کو تو مارتا ہے
کچھ خبر ہے تجھے ابنِ ملجم
یہ زمانے کا مشکل کشا ہے

اس نے سجدوں پہ سجدے کیے ہیں
اس نے روضوں پہ روضے رکھے ہیں
اس کا کھانا ہے اِک جو کی روٹی
اِس کے سونے کو اِک بوریا ہے

پیشوا اٹھ گیا ہے جہاں کا
سونے سونے ہیں مہراب و منبر
کس خموشی سے گھر بھی خدا کا
آج مصروفِ آہ و بکا ہے

دل پہ داغ، یتیمی سجائے
غم کا پیکر ہیں شبیرؑ و شبرؑ
جس کو دیکھو وہی رو رہا ہے
گھر امامت کا ماتم کدہ ہے

کیوں رلاتا ہے آلِ نبی کو
کیا بگاڑا ہے تیرا علی نے
اس ستمگر سے ہاشم یہ پوچھو
کیا یہ اجرِ رسولِ خدا ہے