نانا تیرے حسنینؑ ہیں ہم غمِ مادر سنانے آئے ہیں
تیری تربت پہ لاڈلے تیرے چند ٹکڑے سند کے لائے ہیں
انما روز جس پہ پڑھتے تھے اب وہ دروازہ جل گیا نانا
تیرے در پہ دیا جلانے ہم اسی در کو بجھا کے آئے ہیں
داغ دروں کے کیسے دکھلاتی باپ ہو تم سے بیٹی کیا کہتی
جس کساء کے تلے تھے ہم سارے نیل اُسکے تلے چھپائے ہیں
دل پہ آئی تھی موت کی ضربت سر کے بالوں پہ آ گئی غربت
جب یہ کہتے تھے لوگ زھراؑ نے دین کے مسئلے بھلائے ہیں
مشکلوں سے قدم اٹھاتی ہے دو قدم چل کے بیٹھ جاتی ہے
بِن سہارے وہ چل نہیں سکتی زخم ایسے جگر پہ کھائے ہیں
بولے اکبرؑ یہ رو کے شہزادے صرف تحریر ہی نہیں تھی وہ
بضعۃ منی کے وہ ٹکڑے تھے جو ہوا میں گئے اڑائے ہیں