زمین میلی نہیں ہوتی ، زمن میلا نہیں ہوتا
محمدؐ كے غلاموں کا ، کفن میلا نہیں ہوتا
محبت کملی والے سے وہ جذبہ ہے سنو لوگو
یہ جس من میں سما جائے وہ من میلا نہیں ہوتا
نشان ماتم كے ہوں جس پر ، بدن میلا نہیں ہوتا
لکھی نادِ علیؑ گر ہو ، کفن میلا نہیں ہوتا
وِلائے مرتضیٰؑ رکھنے سے ہی بندہ حلالی ہے
علیؑ کا عشق جس مَن میں وہ مَن میلا نہیں ہوتا
میرے غازیؑ كے پرچم کا جہاں سایہ بھی پڑ جائے
قسم مولاؑ کی وہ گھر کیا صحن میلا نہیں ہوتا
نبیؐ کی آل کا دامن پکڑ لو اے جہاں والو
رہے جب تک یہ ہاتھوں میں چلن میلا نہیں ہوتا