ہزج مثمن مقبوض…مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
وقار ہے جو دین کا ، حسین ہے حسین ہے
جو ہے بِنائے لا الہ ، حسین ہے حسین ہے
وہ چھاؤں صبر کی تنی، کڑی سِتم کی دھوپ میں
وہ فاطمہ کا لعل ہے علی کے رنگ و روپ میں
جو ہو بہو ہے مصطفی ، حسین ہے حسین ہے
نماز سجدہ اور اذاں ، سبھی کو تجھ پہ ناز ہے
نبی رسول اور خدا کو حس حسیں پہ ناز ہے
ہاں وہ حَسینِ کربلا حسین ہے حسین ہے
وہ جس نے تیغ ظلم کی ، گلے سے اپنے کاٹ دی
وہ جس کی پیاس نے سبیل ِصبر سب میں بانٹ دی
ہاں وہ کرم کی انتہا حسین ہے حسین ہے
وہ زیر ِ خنجر و سِناں ، جھکا خدا کے سامنے
وہ جس کو آئے مجتبیٰ و مرتضیٰ بھی تھامنے
وہ جس کو تھامیں مصطفی حسین ہے حسین ہے
TAQTEED-11/10/2015
وہ دست و بازو ئے علی ، نبی کا وارث و امیں
امام شرق و غرب بھی ، وہ ذی وقار بالیقیں
نبی نہیں نبی نما ، حسین ہے حسین ہے
وہ حوصلہ یقیں مرا ،کوئی ہو امتحاں کڑا
، وہ صبر ِ کی چٹان ہے وہی ہے شاہ دیں پناہ
ہے صبر کا جو تر جو ما حسین ہے حسین ہے
حسین و منی و انا من الحسین کا خطاب
وہ جس کا سجدا کر گئے تمام سجدے لاجواب
نازِ علی اے مرتضیٰ ، حسین ہے حسین ہے
فخر ِ علی اے مرتضی ، حسین ہے حسین ہے
وہ روشنی ہے نور ہے ، ہو تیرگی جو چار سو
کہ دورِ پر فتن میں ہے امام ہی صدائے ہو
جو خوں سے دین کو دے جِلا، حسین ہے حسین ہے
وہ نورِ مصطفی بھی ہے ، وہ حُسنِ مصطفی بھی ہے
وہ نورِ عین فاطمہ ہی نورِ مرتضی بھی ہے
جو وقت کا امام ہے ، حسین ہے حسین ہے
|