#1
نادِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم
علی امامِ من است ، منم غلامِ علی ہزار جانِ گرامی ، فدائے نامِ علی
جمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
ثنائے مولا علی لکھی ہے سرِ عقیدت جھکا جھکا کے
خدا نے الفاظ خود دیئے ہیں ، علی کی عظمت دکھا دکھا کے
امام کتنے علی کے گھر میں ، شہید کتنے علی کے گھر میں
علی کی بعثت خدا کے گھر میں ہوئی شہادت خدا کے گھر میں
بنایا رب نے جہان سارا ، نبی کا جلوہ دکھا دکھا کے
غدیر میں مدحِ مرتضیٰ میں کہا جو مولائے مصطفی نے
علی امامِ زمانہ سب کے ، بنایا تم پر مرے خدا نے
علی کی بیعت کرو تمامی ، علی کے نعرے لگا لگا کے
میں دید روضے کی انکے پاؤں ، ہو اِذنِ مولا ، نجف کو دیکھوں
سکوں سے نادے علی پڑھوں میں ، درود آلے نبی پہ بھیجوں
شرف میں دیدِ علی کا پاؤں ، گامنقبت یہ سنا سنا کے
یزیدی ات جیت کے بھی ہاری ، حسینی ات ہار کے بھی فاتح
نبی کے دیں کو دی جاودانی امام نے اپنا خوں بہا کے
حسین تو سرخرو ہؤا ہے ، تمام کنبہ لٹا لٹا کے
نبی ﷺ ہیں بھائی ، بتول روجہ ، حسین کے اور حسن کے بابا
خدا طہارت کی قسمیں کھائے ، مرے علی ؓ کا ہے وہ گھرانہ
تو پنجے تن کا لگا ؤ نعرا علی کی محفل سجا سجا کے
یہ کارِ دنیا جو چل رہا ہے ، وسیلہ گر یہ نہیں تو کیا ہے
لعاب ِ سرکار میں شفا ہے ، گواہ خود چشمِ مرتضیٰ ہے
دی فتح ِ خیبر کی گویا کنجی ، لعاب اپنا لگا لگا کے
درود بھیجا ہے میں نے مفتی ، نبی کا جو نام آیا لب پر
لبوں پہ ادرکنی یا علی ہے علی کا جو نام آیا لب پر
تبھی تو رب نے نوازا مجھ کو درِ نبی پہ بلا بلا کے
100% سرٹیفائیڈ
|