Nabi ki midhat may likh raha hoon
Efforts: KALAAM: SAYYEDI AYAZ MUFTI - HOUSTON USA



نعت
جمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن 

نبی ﷺ کی مِدحت میں لکھ رہا ہوں قلم کو اپنے جھکا جھکا کے
حِکا یتے دل سنا رہا ہوں میں آنسوؤں کو بہا بہا کے

مرے نبی کی ہیں عظمتیں کیا ہے سارا قرآن ان کی مَد حَ 
میں لکھ سکوں کیا بساط میری ، ہے مجھ سے شاعر کی حیثیت کیا 
خیال خود دے رہا ہے الفاظ ناز میرے اٹھا اٹھا کے 

دل و زباں کو کیا معطر نہ پھر بھی کر پا ئی مَد حِ سرور ﷺ
وہ جس کا ممدوح خود خدا ہو کہاں بھلا پھر مجال احقر 
پِرو کے اشکوں کی اک لڑی میں درود لایا سجا سجا کے 

فلک پہ میلاد ہورہا ہے ، خدا مخاطب ہے ہر نبی سے
کہ ہر نبی تذکرہ کرے گا ، نبی کی آمد کا امتی سے
خدا سے توثیق کررہے ،  نبی بھی سر کو ہلا ہلا کے

در نبی پہ جو حاضری ہو ، مرے مقدر کی یاوری ہو
خدا کرے کہ یہ معجزہ ہو ، جو اذن اک نعت کا عطا ہو
کہ  اہلِ بیت ِ نبی سے پاؤں میں داد نعتیں سنا سنا کے



سنیں صحابہ کلام ربی محمد ِ مصطفی ﷺکے لب سے 
پڑھے جو قرآن خود ہی قرآں ، غلام دیکھیں سنیں ادب سے 
فرشتے بھی ہیں شریک اس میں نبی ﷺ کے نعرے لگا لگا کے 


یَزِیدیت جیت کے بھی ہاری حسینیت ہار کے بھی فا تح 
نبی ﷺ کے دیں کو دی جاودانی امام نے اپنا خوں بہا کے 
حسین تو سرخرو ہؤا ہے تمام کنبہ لٹا لٹا کے 

یہ کارِ دنیا جو چل رہا ہے وسیلہ گر یہ نہیں تو کیا ہے 
لعاب سرکار میں شفا ہے گواہ خود چشمِ مرتضیٰ ہے 
دی فتح خیبر کی سند گویا لُعاب اپنا لگا لگا کے 


امام کتنے علی کے گھر میں ، شہید کتنے علی کے گھر میں 
علی کی بعثت خدا کے گھر میں ہوئی شہادت خدا کے گھر میں 
بنایا رب نے جہان سارا ، نبی کا جلوہ دکھا دکھا کے


درود بھیجا ہے میں نے مفتی ، نبی کا جو نام آیا لب پر
پڑھی ہے ناد ِ علی بھی یارو، علی کا جو نام آیا لب پر
تبھی تو رب نے نوازا مجھ کو درِ نبی ﷺپہ بلا بلا کے



نبی کے مولود کی گھڑی ہے ، ہںو زمزمہ خواں بحور اور بر
کلام ِ ربی کی آئیتں ہں  ، مدیح ِ شاہ ِزمن سراسر
ملک بھی تو اجر پارہے ہیں  ، نبی کا جھولا جھلا جھلا کے


علی ہیں بھائی ، بتول بیٹی ، حسن حسین کے ہیں یہ نانا
نجس کو رکھا ہے دور ان سے ، مرے نبی کا ہے یہ گھرانہ
سو نعرہ ء پنجتن لگاؤ ، نبی کی محفل سجا سجا کے

فلک پہ میلاد ہورہا ہے ، خدا مخاطب ہے ہر نبی سے
کہ ہر نبی تذکرہ کرے گا ، نبی کی آمد کا امتی سے
خدا سے توثیق کررہے ،  نبی بھی سر کو ہلا ہلا کے

درود بھیجا ہے میں نے مفتی ، نبی کا جو نام آیا لب پر
پڑھی ہے ناد ِ علی بھی یارو، علی کا جو نام آیا لب پر
یوں میری عزت بڑھا رہے ہں  حضور در پر بلا بلا کے