میں اسطرح سے ہوں یا رب تیری ثناء کے بغیر
کہ جیسے جی نہیں سکتا کوئی ہوا کے بغیر
نہ مجھ سے نعت کا اِک لفظ بھی رقم ہوتا
خدائے آلِ محمدؑ تیری عطا کے بغیر
قسم خدا کی ادھوری کتاب لگتی تھی
بیاض شعر مجھے نعتِ مصطفیٰؐ کے بغیر
نہ میری حمد مکمّل ہے مصطفیٰؐ کے بغیر
نہ میری نعت مکمّل ہے مرتضیٰؑ کے بغیر
وسیلہ آلِ نبیؐ کا نہ ہو تو رہتے ہیں
دعا اثر کے بغیر اور اثر دعا کے بغیر
فقیرِ شاہِ نجفؑ ہوں کوئی مذاق نہیں
ہمیشہ ملتا ہے مجھ کو میری صلاح کے بغیر
سکون ملتا نہیں مصطفیٰؐ کو اور کہیں
اے شاہزادئیِ عالم تیری ردا کے بغیر
دلیل کوئی نہیں تھی خدا کے ہونے کی
علیؑ و فاطمہؑ حسنینؑ و مصطفیٰؐ کے بغیر
سزا کے بعد جزا ہے اگر تو اے واعظ
تو کیسے مل گئی حرؑ کو جزا سزا کے بغیر
علیؑ، رسولؐ، خدا اصل میں ہے یہ ترتیب
تم انتہا کو نہ پہنچو گے ابتدا کے بغیر
کوئی بھی ہو رضی اللہ ہو نہیں سکتا
اے بنتِ رحمتِ عالمؑ تیری رِضا کے بغیر